; سنڌي شخصيتون: عبدالکٌریم کورائی

16 October, 2026

عبدالکٌریم کورائی

عبدالکٌریم کورائی

تحریر: عبد الرحیم کُورائی



رتوڈیرو ضلع لاڑکانہ سندھ پاکستان کا مایہ ناز عالم! جامع فنون معقول و منقول حاوی فروع واصول استادالافاق بالاتفاق شیخ السند علامہ عبدالکٌریم کورائی السندی (کٹپر) رحمۃ اللّٰہ علیہ، محشی تفسیر البیضاوی درسی اور انکی غیر معمولی علمی خدمات کا مختصر تعارف،

زمانہ قدیم سے وادئ سندھ کی سرزمین جلیل القدر علماء مشائخ محققين محدثين مفسرين فقہاء فلسفی شاعر ادیب اور اولیاء کرام پیدا کرنے میں زرخیز رہی ہے


سندھ کے برگزیدہ عالم استاد کامل رئیس المدرسین شیخ السند علامہ عبدالکریم کٌورائی کی غیر معمولی علمی خدمات کی بدولت سینکڑوں علماء تیار ہوکر نکلے اور انکے جاری علمی فیض سے جا بجا علمی حلقے بنتے گئے اور علمی مراکز قائم ہوگئے اسطرح سوا صدی تک اس خطے میں علامہ کٌورائی کے جاری علمی فیض کی سرگرمیاں عروج پر ریںن،

ڈیڑھ صدی پہلے آپکی ولادت باسعادت ١٣٠١ھ / 1890ء رتوڈیرو سے آٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر گڑھی خدا بخش بھٹو روڈ پر واقع ایک قدیم بستی پگاڑہ بھٹو میں ہوئی آپکی ولادت سے قبل آپکے والد گرامی دنیا سے کوچ کر چلے گئے تھے اور آپ پیدائشی یتیم واقع ہوئے آپکی والدہ ماجدہ نے آپکی پرورش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ابتدائی عمر میں ہی آپ بھیڑ بکریاں چرانے لگے جیسے ہی آپ شعور کو پہنچتے گئے آپکا طبعی میلان علم کی طرف مائل ہوتا گیا اور آپ پڑھنے میں دلچسپی لینے لگے شروع شروع میں آپ اپنے ماموں عبدالوھاب رح سے ابتدائی قاعدہ قرآن مجید پڑھنے کے بعد بھیڑ بکریاں چراگاھ میں چھوڑ کر قریبی گاؤن آباد بھٹو میں فارسی کے ایک ممتاز عالم مولانا قاضی محمد صالح قریشی رح کے پاس روزانہ پڑھنے چلے جاتے اور پہر واپس ہوکر بھیڑ بکریون کو سنبھال کر گھر لے جاتے آپ نے اسکو روز کا معمول بنا لیا قرآن مجید ناظرہ پڑھنے کے بعد آپ نے سکندر نامہ تک فارسی کی تمام کتابین یہاں پر مکمل کرلین اور انشاء نگاری بھی انہین سے سیکھ لی مزید آگے پڑھنے کے لئے آپکو سفر کی صعوبتوں کا سامنا تھا طلب علم اب آپ سے قربانیاں مانگنے لگی تھی والدہ ماجدہ کی جدائی آپکے لئے سب سے بڑی چیلنج تھی چونکہ اس خطے میں آپکے ذریعے سے علوم کا پھیلنا تھا چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپکو دلی تقویت بخشی نیز والدہ ماجدہ نے آپکا بھرپور ساتھ دیا اور علم کی تحصیل میں آپکے راستے کھلتے گئے اللّٰہ تعالیٰ نے آپکو ہر فن کے قابل استاد تک پہنچا دیا ایسے محسوس ہوتا جیسے اللّٰہ تعالیٰ براہ راست آپکی نگرانی فرما رہا تھا یہاں سے چار پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع نسبتاً ایک بڑی گاؤن بنگلڈیرہ میں مولانا عبداللہ بھٹو رح کے ہان آپ پہنچ گئے جو معقولات اور فلسفہ میں سندھ کے بڑے اور جلیل القدر عالم مولانا محمد اسماعیل ابڑائی کے شاگرد تھے یہاں پر آپ نے سات ماہ قیام کے دوران علم صرف کی تمام کتابین مکمل کرنے کے بعد قمبر لاڑکانہ روڈ پر واقع ایک گاؤں نورنگ واھ میں علم نحو کے ایک اور مشہور عالم مولانا میر محمد نورنگی رح کے پاس آگئے یہاں پر آپ نے دس ماہ قیام کے دوران علم نحو کی کتابیں شرح مائۂ عامل اور ھدایت النحو ان سے  پڑھ لین خداداد ذہنی صلاحیتوں کی بدولت آپ تمام ساتھیوں میں ممتاز تھے درسی علوم میں غیر معمولی دلچسپی نے آپکو کتابوں میں گسنے کا شوق پیدا کیا آپ نے اپنے مطالع سے نہ صرف شرح ملا عبدالغفور کو حل کرلیا کما حقّہ اس پر تقریر بھی کرلی مولانا نورنگی نے علامہ کورائی  پر اللّٰہ تعالیٰ کی خاص رحمت کا انکشاف کیا تھا اسکے بعد آپ قمبر کے قریب رتوڈیرو روڈ پر ایک دوسری گاؤن ابڑا میں معقولات اور فلسفہ کے مشہور جید عالم جامع علوم و فنون مولانا محمد اسماعیل ابڑائی کے پاس آگئے علامہ ابڑائی علم منطق فلسفہ کے مرکز خیرآباد سے فارغ التحصیل تھے آپ نے سات برس تک مولانا فضل حق خیرآبادی سے علم منطق فلسفہ وغیرہ پڑھا تھا مولانا فضل حق خیرآبادی معقولات کے امام تھے علامہ کورائی یہاں پر مولانا محمد اسماعیل ابڑائی سے علم منطق اور فلسفہ کی بنیادی ابتدائی کتابیں پڑھنے کے بعد چونکہ علامہ ابڑائی معمر ہوگئے تھے آپ نے سندھ کے ایک اور علمی مرکز سومرانی کا رخ کرلیا یہان پر آپ نے چار سال قیام کیا مولانا عبدالقادر اور مولانا عبدالستار کے ہان آپ نے کافیہ رسائل منطق اور فقہ کی کتابیں شروع کیں چار سال میں آپ نے یہاں پر عربی کی متداول کتابیں، علم نحو میں شرح جامی تک علم منطق میں شرح تہذیب تک فقہ میں شرح وقایہ تک اصول فقہ میں نورالانوار تک علم کلام  میں مختصر المعانی تک اور تفسیر جلالین مکمل کرلین آپ جہان بھی پڑہنے جاتے وہاں پر پڑھنے کے ساتھ ساتھ طالب علموں کو پڑھاتے بھی رہتے اسطرح ہر وقت آپ کے ارد گرد طالب علموں کا ھجوم سا جمع رہتا تھا اسکے بعد علم الفرائض ھیئت ھندسہ پڑھنے کے لئے آپ نے سومرانی کو الوداع کہا اور ملتان کا رخت سفر باندھ لیا وہاں پر مولانا عبدالحلیم رح اور مولانا نصیرالدین رح علم میراث کے خاص ماہرین موجود تھے آپ نے ان سے میراث میں سراجی اور ھندسہ میں خلاصت الحساب اوقلیدس مکمل کرلین یہاں پر بھی آپکے ارد گرد طالب علموں کا حلقہ سا بن گیا تھا مولانا خیر محمد مکی حجازی وہین پر آپکے حلقۂ تلمیذ میں شامل ہوگئے تھے بعد میں وہ حرم مکہ میں درس دینے پر معمور ہوئے مولانا مکی حجازی آپکے صاحبزادے ہیں اسکے بعد آپ ڈیرہ غازی خان تشریف لے گئے جہاں پر علم نحو اور اصول فقہ کی آخری کتابیں شرح ملا عبدالغفور اور توضیح تلویح پڑھانے میں مولانا فضل حق رح بڑی شہرت کے حامل عالم تھے آپ نے یہاں پر ان سے دونوں کتابیں پڑھ لین جس وقت یہاں پر یہ دونوں کتابیں پڑھائی جاتیں مدرسے کے صدر دروازے پر مخصوص جھنڈا لہرایا جاتا تھا جو ان دونوں کتابوں کے جاری درس کا گواہ ہوتا تھا پرانے دور میں کچھ ایسے ہی علمی مشغلے ہوا کرتے تھے

اسکے بعد آپ پنو عاقل کے قریب گاؤں فقیر شمس الدین انڈھڑ میں تشریف لے گئے یہاں پر قمرالعلماء مولانا قمرالدین انڈھڑ معقولات کی کتابیں پڑھانے کے مشہور عالم تھے  یہاں پر آپ نے بقایا تمام کتابون میں تکمیل فراغت حاصل کرنے کے بعد ۱۰ذوالج ۱۳۱۹ھ کو اس مدرسے میں آپکی دستار فضیلت کی تقریب منعقد کی گئی اسطرح ١٨سال کی چھوٹی سی عمر میں ہی اللّٰہ تعالیٰ نے آپکو ورثۃ الانبیاء علیہم السلام کا حقیقی مصداق بنا کر یہ شاندار اعزاز آپکو عطا کردیا اسی دوران حضرت حماد اللہ ہالیجوی رح بھی مولانا قمرالدین کے پاس پڑہتے تھے اور یہیں سے علامہ کورائی کے ساتھ انکی قربت ہوئی تھی یہاں پر بھی علامہ کورائی کے ارد گرد طالب علموں کا جم غفیر بن گیا تھا اسطرح آپ زمانۂ طالب علمی میں ہی طلباء کے ہردلعزیز استاد بن گئے تھے،

ایک موقع پر مولانا قمرالدین کے استاد مولانا نظر محمد بھونگ والے جو مولانا محمد اسماعیل ابڑائی کے شاگرد تھے یہان پر تشریف لے آئے تھے جو کبھی کبھار اپنے شاگرد مولانا قمرالدین کے ہان آتے رہتے تھے علامہ کورائی کو پڑھاتے ہوئے دیکھ کر مولانا قمرالدین سے کہا چلو اس نوجوان کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ وہ کسطرح پڑھا رہا ہے  علامہ کورائی کے پڑھانے کا انداز دیکھ کر آپ دنگ رھ گئے اور مولانا قمرالدین سے کہنے لگے یہ نوجوان آپکا شاگرد ہے اور آپ میرے شاگرد ہو لیکن یہ ہم دونوں سے فائق ہے

ایک اور موقع پر سندھ کے مشہور محقق عالم مولانا عبدالوھاب کولاچی مولانا قمرالدین کے مدرسے میں تشریف لائے تھے جیسے ہی وہ مدرسے میں داخل ہوا علامہ کورائی طالب علموں کو پڑھا رہا تھا مولانا عبدالوھاب علامہ کورائی کے پاس سے گذرتے ہوئے تھوڑی دیر رکے اور کتاب کے کسی اہم مقام پر انکی تقریر کا جائزہ لینے کے بعد آپ حیرت زدہ ہوگئے اور آپکے منھ سے یہ جملہ نکلا

" یہ شاگرد تو اپنے استاد سے آگے نکلا جا رہا ہے "

شاگرد ہو تو ایسا ہو جو اپنے اساتذہ کے لئے فخر کا باعث بنے عام طور پر استاد طالب علم کے لئے فخر کا باعث بنتا ہے استاد کی نسبت ہی طالب علم کا علمی مقام و مرتبہ متعین کردیتی ہے علامہ کورائی نے اپنے تمام اساتذہ کے دل جیت لئے تھے وہ انکا ہونہار شاگرد تھا جہاں پر بھی اور جس استاد کے پاس بھی پڑہنے جاتا اپنی غیر معمولی قدرتی صلاحیتوں ادیبانہ طرز عمل اور فکری طرز تعلیم سے اپنے اساتذہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرا لیتا تھا آپ اپنے تمام اساتذہ علماء کرام سے زمانۂ طالب علمی میں تعریفی کلمات ان کے دل سے نکلی دعائیں وصول کرتے رہتے اسطرح آپ درجہ کمال پر پہنچ گئے آپکے فیض میں غضب کی روانی تھی حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن دیوبندی کے فیض میں بھی کمال کی روانی تھی وہ سارے دیوبندی علماء کا استاد تھا فرق صرف اتنا تھا کہ حضرت شیخ الہند کو برصغیر کے مرکز دارالعلوم دیوبند میں تدریسی خدمات انجام دینے کا موقع ملا اور علامہ کورائی نے سندھ کے ایک کونے میں قائم عارضی مدارس میں تدریسی خدمات انجام دین علامہ کورائی کے بعد وہ زوال پزیر ہوگئے علامہ کورائی اور حضرت شیخ الہند میں کافی حد تک مماثلت پائی جاتی تھی جس نے بھی علامہ کورائی کو اپنا استاد بنایا اس نے اپنے نصیب سے بھی کہین زیادہ فیض پالیا آپکا ادنی سا شاگرد بھی آج کے دور کے بڑے سے بڑے عالم کے مقابل ہوتا تھا

تکمیل فراغت کے بعد اب آپ کو مستقل طور پر اور باقاعدہ تدریسی (معلمانہ) خدمات انجام دینی تھی ابھی آپ نے تکمیل فراغت حاصل نہین کی تھی مختلف مدارس میں پڑھانے کے لئے آپکو درخواستین آننے لگین

سردار حاجی گوھر خان جمالی کے مدرسہ واقع محراب پور کے مدرس مولوی غلام رسول شیخ ساکن مضافات ضلع بھاگ ناڑی کے علامہ کورائی کی فراغت سے چار پانچ ماہ قبل سردار گوہر خان کے مدرسے کو چھوڑ کر چلے جانے سے سردار گوہر خان کو اپنے مدرسے کی بیحد فکر لاحق ہوئی وہ ایسے عالم کی تلاش میں تھے جو جامع علوم ہونے کے ساتھ اوصاف حمیدہ سے بھی متصف ہو سردار گوہر خان کے مدرسے کے ایک قدیم طالب علم نے انکو مشورہ دیا کہ ایسے ہی اوصاف حمیدہ رکھنے والا عالم صرف اور صرف مولانا عبدالکریم ہو سکتا ہے اور جو تکمیل کے آخری مرحلے میں ہین اور دو تین ماہ میں فراغت حاصل کرلینگے انکی شہرت ثریا کو پہنچی ہوئی ہے سردار گوھر خان یہ سنتے ہی اسی وقت اپنا ایک نمائندہ علامہ کورائی کی خدمت میں روانہ کردیا اس نے مولانا قمرالدین کو نہ صرف علامہ کورائی کو سردار گوہر خان کے مدرسے محراب پور میں پڑھانے پر راضی کرلیا نیز ان سے علامہ کورائی کا کسی دوسری جگھ نہ جانے کا وعدہ بھی لے لیا

تکمیل فراغت کے بعد علامہ کورائی حسب معاہدہ سردار گوھر خان جمالی کے بیحد اسرار پر اسکے مدرسے واقع محراب پور میں بطور مدرس تدریس کا آغاز کردیا اور زور و شور سے معلمانہ سرگرمیوں میں مشغول ہو گئے مختلف مدارس سے طالب علم جو علامہ کورائی سے فنون کی کتابیں پڑھنے میں دلچسپی رکھتے تھے اور وہ اس انتظار میں تھے کہ علامہ کورائی کب اور کہاں پر اپنا حلقہ تدریس قائم کرتے ہیں جب انکو سردار گوھر خان کے مدرسے محراب پور میں علامہ کورائی کا یقین ہوگیا انہوں نے فوراً محراب پور کا رخ کرلیا اور جوک در جوک یہاں پر پہنچتے گئے اسطرح علامہ کورائی کی غیر معمولی محنت سے سردار گوھر خان کا مدرسہ طالب علموں سے کھچا کھچ بھر گیا تدریس میں آپکی غیر معمولی قابلیت کا ڈنکا تو پہلے ہی بج چکا تھا یہاں پر صبح سے لیکر عشاء تک آپ پڑھاتے تھے اور عشاء کے بعد دو تہائی رات اسباق کے مطالعہ میں گزار دیتے صرف رات کا ایک پہر آپکو آرام کے لئے مل جاتا تھا درس نظامی کے تمام فنون کی ساری کتابیں آپ ایک ہی وقت میں پڑھاتے تھے اسطرح آپ بڑی محنت اور تندہی سے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور توانائیوں کے ساتھ پڑھانے لگے

تدریس میں درجہ کمال حاصل کرنے کے ساتھ فتویٰ نویسی میں بھی آپکی قابلیت کا یہ عالم تھا کہ والیان ریاست قلات کا قاضی مولانا نبی بخش کے شاگرد مولانا عطا محمد وساوے نے بعض شرعی مسائل پر علامہ کورائی سے ٹکر لی ان سے اختلاف کیا مگر علامہ کورائی کے دلائل کے سامنے انکی ایک بھی نہ چل سکی بالآخر انہیں سر تسلیم خم کرنا پڑا رئیس المحققین مولانا عبدالوہاب کولاچی کو علامہ کورائی کی تحقیق پر مکمل اعتماد تھا مولانا عبدالوھاب کولاچی نے علامہ کورائی کی تائید کردی مولانا عبدالوھاب کولاچی کو علامہ کورائی کے علمی معیار کو صحیح طور پر جانتے تھے اور انکی تحقیق کو علمی معیار پر پورا مانتے تھے

سردار گوھر خان کے مدرسے میں پندرہ سال تک بڑی گرمجوشی کے ساتھ تدریسی خدمات سر انجام دینے کے بعد ١٣٣٤ھ میں مولانا قمرالدین کے اچانک حکم پر علامہ کورائی محراب پور کو چھوڑ کر گھوٹکی پہنچ گئے اور یہاں پر جامع مسجد والے مدرسے میں پڑھانے لگے سردار گوھر خان علامہ کورائی کے اسطرح چھوڑ کر چلے جانے سے بیحد افسردہ ہو گئے لیکن علامہ کورائی مولانا قمرالدین کے فیصلے کے آگے بے بس تھا علامہ کورائی کے شاگرد مولانا محمد ابراھیم کارڑائی مولانا قمرالدین کے اس فیصلے کے پیچھے تین وجوہات بیان کرتے ہین گھوٹکی زمانۂ قدیم سے اولیاء کرام صوفیائے عظام کا مسکن رہا ہے اس وجہ سے اس شہر کا نام " لوء صاحبان " پڑگیا تھا مولانا قمرالدین خود بھی اکثر عمر اسی علاقے میں تدریس فرمائی تھی یہاں کے زیادہ تر علماء مولانا قمرالدین کے شاگرد تھے یہ شہر ایک خوبصورت سر سبز و شاداب لہلہاتے کھیتوں اور حسین باغات کے درمیان میں تھا اور ریلوے اسٹیشن بھی تھی یہ اور بھی خوش آئند تھا اس وجہ سے یہاں طالب علموں کی آمدو رفت کی سہولت تھی علامہ کورائی اپنے مزاج کے مطابق یہاں پر بھی محنت کے ساتھ پڑھانے لگے اور طالب علموں کا اژدھام جمع ہوگیا رجوع کا یہ عالم تھا کہ دور دراز کے علاقہ جات سے جوق در جوق طالب علم آنے لگے حتیٰ کہ کوئی ریل گاڑی طالب علموں کے وفد سے خالی نہیں ہوتی تھی اور یون لگتا جیسے کوئی مقناطیسی طاقت انہیں یہاں کھینچتی چلی آرہی ہو مگر افسوس آپ یہاں پر زیادہ دیر تک نہ ٹہر سکے یہاں پر آپکی طبیعت نہ لگ سکی اور آپ مسلسل بیمار رہنے لگے

اسی دوران خلافت تحریک نے سندھ میں مدارس کا جال بچھانے کا فیصلہ کر لیا تھا اور قمبر علی خان سے مغرب کی جانب ٢٢/٢١ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع قصبہ کور سلیمان میں خلافت تحریک کی جانب سے مدرسہ دارالفیض کی بنیاد رکھی گئی اور نواب سردار غیبی خان چانڈیو اس مدرسے کا روح رواں بنا علامہ کورائی کو اس مدرسے میں تدریسی خدمات انجام دینے کے لئے مجبور کیا گیا اور علامہ کورائی نے یہاں پر بیس برس تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے سندھ کے بڑے نامور علماء یہاں سے فارغ التحصیل ہوئے تکمیل فراغت کے بعد  اپنے استاد علامہ کورائی کے مشورہ سے تقریبا ١٧ سترہ فارغ التحصیل ہوئے علماء دارالعلوم دیوبند چلے گئے اور وہاں پہنچتے ہی کچھ دنوں بعد زیادہ تر یہ کھ کر فوراً واپس آگئے کہ جو کچھ دیوبند میں پڑہایا جا رہا ہے وہ تو ہم پہلے ہی پڑہکر آئے ہین کور سلیمان میں بیس برس تک بھرپور  تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد سندھ کے سخی مرد نواب نبی بخش خان بھٹو اور انکے بڑے بھائی سردار واحد بخش خان بھٹو کے دل میں خیال آیا اور انہوں نے ارادہ کرلیا کہ انکی نوابی گاؤں میرپور بھٹو میں خالص علمی مدرسے کو قیام عمل میں لایا جائے جہان  پر معیاری تعلیم سے حقیقی علماء پیدا ہوکر نکلین اسکے لئے بھٹو نوابون نے علامہ کورائی کی خدمات حاصل کرلین علامہ کورائی اس دور کا بہت بڑا عالم تھا اور انکے آباء اجداد قدیم زمانے سے نوابوں کی جاگیر کے رہائشی تھے اس لحاظ سے علامہ کورائی کی بھٹو نوابوں کے ساتھ قربت بھی تھی اس نوزائیدہ مدرسے کے لئے نوابون نے علامہ کورائی کو یہاں پر لے آنے کی ذمہ داری مولانا قاضی محمد صالح قریشی پر رکھدی مولانا قاضی محمد صالح قریشی علامہ کورائی کا استاد اور بھٹو نوابوں کا ذمہ دار تھا انکو عید نماز پڑھاتا اور انکے جنازے اور نکاح وغیرہ سارے کام انکے ذمے تھے چونکہ علامہ کورائی کی آبائی گاؤں پگاڑہ بھٹو میرپور بھٹو کے بہت ہی قریب آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی اور آپکی والدہ ماجدہ بھی گاؤن میں تھی علامہ کورائی آخری ایام یہاں پر گذارنے مین بہت اچھا محسوس کر رہا تھا اسطرح علامہ کورائی بھٹو نوابون کی خواہش پر انکے نوزائیدہ مدرسے میں تشریف لے آئے یہاں پر بھی میرپور بھٹو میں علامہ کورائی کا سن کر ہر اطراف سے طالب علموں کا ھجوم بن گیا اور یہ مدرسہ علمی مرکز کی صورت اختیار کر گیا علامہ کورائی یہاں پر بھی زور و شور کے ساتھ تدریس کا آغاز کردیا اور میرپور بھٹو میں ہر جانب طالب علموں کی   رونقیں لگ گئین نواب نبی بخش خان بھٹو اپنے مدرسے میں اسطرح کا علمی سرگرمیاں دیکھ کر بہت محظوظ ہوتے رہے وہ پہلے ہی علامہ کورائی کے دلدادہ تھے،

بھٹو نوابوں کی جانب سے طالب علموں کو روزانہ کی بنیاد پر گوشت دیا جاتا تھا اور سندھ کے مشہور خوشبو دار قیمتی سکداسی چاولون کے انبار لگے ہوتے تھے دیسی گھی میں تیار طالب علموں کو شاھی کھانے کھلائے جاتے تھے اسکے لئے باقاعدہ باورچی مقرر تھے نوابون اور طالب علمون کے کھانے ایک ہی بنتے تھے طالب علموں کو روزانہ دودھ دیا جاتا تھا نواب نبی بخش خان بھٹو طالب علموں کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ جسمانی نشوونما بھی ضروری سمجھتا تھا نیز طالب علموں کو باقاعدہ ماھانہ وظیفہ دیا جاتا اور نوابوں کی طرف سے طالب علموں کو نہ صرف کپڑے دیئے جاتے انکی سلائی کے لئے خاص درزی بھی رکھا گیا تھا کپڑوں کی دھلائی کے لئے شاھی دھوبی پہلے سے موجود تھے غرض نواب نبی بخش خان بھٹو کی دلی خواہش ہوتی تھی کہ انکے مدرسے کے طالب علموں کو ہر شعبہ میں زیادہ سے زیادہ سہولیات مہیا کی جائین، موجودہ دور کے بڑے سے بڑی جامعات میں بھی وہ سہولیات موجود نہیں جو اُسوقت نواب نبی بخش خان بھٹو کے مدرسے کے طالب علموں کو مہیا کی گئی تھین اسی دوران کچھ وقت سے علامہ کورائی کی طبیعت ناساز رہنے لگی نواب صاحب نے انکے علاج میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بڑے سے بڑے ڈاکٹرون اور حکیمون سے علاج کروایا وقتی طور پر تو افاقہ ہوجاتا لیکن کوئی خاص نہین اسی دوران علامہ کورائی کی طبع پرسی کے لئے خاص طور پر آپکے شاگردون علماء حضرات کی آمد و رفت جاری تھی کہ علامہ مولانا غلام مصطفیٰ قاسمی اپنے استاد کی طبع پرسی کے لئے حاضر ہوئے اور علامہ کورائی کو اپنے صاحبزاہ کی کتابیں مکمل کرانے کی فکر لاحق ہونے لگی علامہ قاسمی سے اپنے اکلوتے صاحبزادے مفتی اعظم سندھ مولانا مفتی عبدالغفار کو اپنے بعد یہاں آکر کتابین مکمل کرانے کی وصیت فرمائی اور علامہ قاسمی حضرت استاد علامہ کورائی کی بات مکمل ہونے سے پہلے نہایت ادب کے ساتھ جھک کر سینے پر ھاتھ رکھا اور بولا حاضر سائین میں خدمت کرونگا

اسطرح یہان پر میرپور بھٹو میں پورے آٹھ برس بھرپور تدریسی خدمات انجام دینے کے بعد ٣،جمادي الآخر ١٣٦٣ھ جمع کی شب طول و عرض میں علم معرفت کے انوار و برکات پھیلانے والا یہ روشن ستارہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا

انا للّٰہ وانا الیہ راجعون

برداللہ مضجعہ و طیب ثراہ آمین

علامہ کورائی کی شخصیت نے نواب نبی بخش خان بھٹو پر بڑا گہرا اثر چھوڑا نیز میرپور بھٹو سوگ میں چلا گیا اور ارد گرد کا پورا ماحول سوگوار بن گیا

علامہ کورائی کی تصانیف:-

پانچ اہم عربی درسی کتابوں پر علامہ کورائی کے عربی میں حاشیات اور بہت سی تحریرات

١- حاشیہ مفیدہ علی تفسیر البیضاوی

٢- حاشیہ علی کافیہ

٣- حاشیہ علی شرح جامی

٤- حاشیہ علی شرح ملا عبدالغفور

٥- حاشیہ علی بدیع المیزان

علامہ کورائی کو اتفاقی طور پر پانچ اہم نسبتین واقع ہوئیں

١- علامہ کورائی کی والدہ ماجدہ کا نام آمنہ تھا یہ آپکی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ ماجدہ کے نام سے ہے

٢- علامہ کورائی کے والد گرامی علامہ کورائی کی پیدائش سے تین ماہ پہلے دنیا سے رخصت ہو چلے تھے اور آپ پیدائشی یتیم واقع ہوئے تھے یہ آپکی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم سے نسبت ہے

٣- علامہ کورائی بچپن میں بھیڑ بکریاں چراتے تھے یہ آپکی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نسبت ہے

٤- ١٨اٹھارہ سال کی قلیل عمر میں اللّٰہ تعالیٰ نے آپکو العلماء ورثۃ الانبیاء علیہم السلام کے حقیقی مصداق کے درجے پر پنہنچادیا

٥- علامہ کورائی ٦٣،برس کی عمر میں دنیا سے رخصت ہوئے یہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ آپکی نسبت ہے

علامہ کورائی کے ساتھ انکی زندگی میں عجیب وغریب واقعات پیش آئے جس طرح ہر انسان کو انکی زندگی میں کیئی واقعات پیش آتے رہتے ہین بس صرف نوعیت کا فرق ہوتا ہے ان میں سے دو ایک کا میں نمونے کے طور پر ذکر کرنا مناسب سمجھتا ہوں

جب علامہ کورائی ڈیرہ غازی خان سے والدہ ماجدہ سے ملنے اپنی گاؤں پگاڑہ بھٹو جانے کا ارادہ کر لیا تو اس دوران ڈیرہ غازی خان سے سکہر پہنچتے پہنچتے آپکے پیسے ختم ہوگئے ریل گاڑی کا سفر اس وقت بہت مناسب ہوتا تھا آپ نے کسی کو سوال کرنا مناسب نہیں سمجھا اور پیدل سفر کا فیصلہ کرلیا کم و بیش ٨٠,اسی کلومیٹر کا فاصلہ چار دنوں میں طے کرکے آپ بخیریت گاؤں پہنچ گئے تھے

آپکی زندگی میں پیش آنے والے عجیب وغریب واقعات میں سے ایک اور واقع کا ذکر:

ہوا یون کہ گاؤں میں مسلسل تین دن تک آپ چاول دھلا پانی دودھ سمجھ کر پیتے رہے اور آپکو محسوس بھی نہ ہوا والدہ ماجدہ کے پوچھنے پر کہ بیٹا دودھ کیون نہیں پیتے ہو والدہ سے کہا وہ تو میں وہاں سے اٹھا کر پی لیتا ہوں! والدہ نے ہنس کر کہا ارے بیٹا وہاں تو چاول دھلا پانی پڑا ہوتا ہے,

منطق فلسفہ کا اتنا بڑا استاد اور سادگی کا یہ عالم۔۔۔

علامہ کٌورائی کے سینکڑوں شاگرد علماء میں سے چند ایک کے نام درج ذیل کر رہا ہوں

١- استاد العلماء مولانا عبد الحکیم سومرو رح شکارپور

٢- علامہ مولانا حکیم قاضی محمد ابراہیم رح الخلیل کارڑوی

٣- استاد العلماء علامہ غلام مصطفیٰ قاسمی رح

٤- علامہ مولانا علی محمد کاکیپوٹہ رح یہ حضرت علامہ محمد اقبال کے فلسفہ میں استاد ہین

٥- علامہ مولانا عبد اللّٰہ چانڈیو (ڈھونکائی) رح

٦- مولانا حبیب اللّٰہ چنگلائی نوناری رح

٧- مولوی غلام صدیق بنگلزئی نوناری رح

٨- استاد العلماء مولانا مظہر الدین اندھر رح

٩- مولانا شاہ محمد ھکڑو رح شھداد کوٹ

١٠- مولانا عبد العزیز سومرو رح بھانڈوں قبو

 

جاری


No comments:

راءِ ڏيندا